ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / دیوالی میں آتش بازی سے بڑھیں گی مشکلیں، کورونا انفیکشن میں ہو سکتا ہے اضافہ!

دیوالی میں آتش بازی سے بڑھیں گی مشکلیں، کورونا انفیکشن میں ہو سکتا ہے اضافہ!

Thu, 12 Nov 2020 21:06:20    S.O. News Service

نئی دہلی،12؍نومبر(ایس او نیوز؍ایجنسی) کورونا وائرس کووڈ۔19 وبا اور آلودگی کے پیش نظر ماہرین صحت نے دیوالی کے دوران آتش بازی سے بچنے کی اپیل کی ہے کیونکہ اس کی وجہ سے آلودگی کے ساتھ ساتھ کووڈ۔19 انفیکشن کے خطرے میں اضافہ بھی ہوسکتا ہے۔ ماہرین کا کہنا کہ ٹھنڈ اور آلودگی کی وجہ سے اسماگ بڑھنے لگا ہے اور اگر آتش بازی سے پرہیز نہیں کیا گیا تو صورت حال اور خراب ہوسکتی ہے جس سے کووڈ۔19 کے پھیلنے اور اس کی وجہ سے اموات کی شرح میں تیزی سے اضافہ ہوسکتا ہے۔

نئی دہلی کے فورٹس۔اسکورٹس ہارٹ انسٹی ٹیوٹ کے ڈاکٹر راہل گپتا کا کہنا ہے کہ جب درجہ حرارت کم ہونے اور آلودگی زیادہ ہونے کی وجہ سے ہوا میں طویل عرصے تک آلودگی کے ذرات موجود رہتے ہیں تو کورونا وائرس کے پھیلنے کا خطرہ زیادہ بڑھ جاتے ہیں اور اس وجہ سے لوگ جلد بیماری کی زد میں آسکتے ہیں۔ فضائی آلودگی زیادہ ہونے پر پھیپھڑے پر زیادہ دباؤ پڑتا ہے اور خلیات زیادہ تباہ ہوتے ہیں جس کی وجہ سے وائرس اور دیگر چھوٹے وائرسوں کا ہمارے پھیپھڑوں پر حملہ کرنا آسان ہوجاتا ہے۔

مطالعہ سے معلوم ہوا ہے کہ جن علاقوں میں آلودگی زیادہ ہوتی ہے وہاں کووڈ سے متاثر ہونے اور کورونا سے اموات کے بھی معاملے بڑھ سکتے ہیں۔ فورٹس اسپتال، نوئیڈا اور فورٹس اسکارٹس ہارٹ ریسرچ انسٹی ٹیوٹ، نئی دہلی کے برین اور اسپائن محکمہ کے ڈائریکٹر راہل گپتا کا کہنا ہے کہ سردی کی ابھی ابتدا ہوئی ہے اور کہرے کی ابتدا ابھی نہیں ہوئی ہے، اس کے باوجود اے کیو آئی کی سطح خطرناک زمرے میں یعنی 300 اور 500 کے درمیان ہے۔

اپولو اسپتال کے سینئر انٹرنل میڈیسن ماہر ڈاکٹر راکیش کمار نے لوگوں سے اپیل کی کہ وہ پٹاخے نہ چلائیں اور گرین دیوالی منانے کی اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ آتش بازی ماحول اور انسانی صحت کے لئے نقصان دہ ہے۔ دیوالی کے دوران آتش بازی کے باعث فضائی آلودگی میں مزید اضافے کا خطرہ ہے جس کی وجہ سے ہوا اور بھی زہریلی ہوسکتی ہے۔

میکس اسپتال کے پلمونولاجی محکمہ کے سربراہ ڈاکٹروویک ننگیا کے مطابق سب سے زیادہ استعمال کیے جانے والے چھ پٹاخوں- سانپ پٹاخے ، لڑی (ایک ہزار پٹاخے کے ساتھ ) ، پھولجھڑی، پل-پل (تارے کی طرح چمکنے والے)، انار اور چکری ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کے ذریعہ مخصوص حدود سے 200 سے 2 ہزار گنا زیادہ ذرات مادے کا اخراج کرتے ہیں۔


Share: